ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امریکی فوج کے انخلا کے بعد کا افغانستان کیسا ہوگا؟

امریکی فوج کے انخلا کے بعد کا افغانستان کیسا ہوگا؟

Sat, 01 May 2021 15:55:22    S.O. News Service

واشنگٹن، یکم مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا باقاعدہ عمل آج یکم مئی سے شروع ہو رہا ہے۔ اس عمل کو 11 ستمبر 2021 سے قبل مکمل کئے جانے کا منصوبہ ہے۔ امریکی محکمہ دفاع نے انخلا کے عمل کو محفوظ بنانے اور فضائی نگرانی کے لئے بمبار طیارے بھجوانے کی تصدیق کی ہے۔

یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب افغانستان میں تشدد کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں اور افغان فوج پر اندرونی حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

ایسے میں ماہرین ان سوالوں پر بھی غور کر رہے ہیں کہ امریکہ کو فوجی انخلا کے بعد افغانستان کے امن عمل اور سیاسی استحکام میں کتنی دلچپسی رہ جائے گی؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو افواج کے جانے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو کون پر کرے گا؟ پاکستان اور خطیکے ممالک کا کردار کیا ہو گا؟ کیا پاکستان ماضی کی طرح کسی ایک افغان دھڑے کی حمایت کرے گا؟ اور کیا آگے چل کر بین الافغان امن عمل کسی سیاسی تصفیے کی طرف لے جائے گا یا پھر افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری شورش ایک اور باقاعدہ خانہ جنگی کی طرف جا سکتی ہے؟

پاکستان میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چئیرمین مشاہد حسین سید نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کو شاید افغانستان سے اب زیادہ دلچسپی نہ رہے۔ اگر لاکھوں کی فوج افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی، تو آٹھ دس ہزار بھی فاتح نہیں ہو سکتے تھے۔ مشاہد حسین کہتے ہیں کہ صدر بائیڈن کا افغانستان سے انخلا کا فیصلہ بہرحال درست ہے کہ یہ لا متناہی جنگ تھی۔ امریکہ کو، ان کے بقول، اس جنگ میں شکست ہوئی ہے لیکن وہ اپنی کامیابی کے دعوے کے ساتھ نکل رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ ویتنام اور کمبوڈیا سے نکل گیا تھا۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ وزیٹنگ اسکالر، پاکستان میں نمل یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثروت رؤف  اس موقف سے اتفاق نہیں کرتیں کہ امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے بعد یہاں کی صورتحال سے کوئی سروکار نہیں رہے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس مسئلے پر تشویش تھی اور رہے گی۔ اگرچہ اس وقت تک امریکہ افغانستان کے اندر امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، لیکن وہ امن عمل کا حصہ رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جنگ اب افغانوں کی جنگ نہیں رہی۔ یہ سرحدیں عبور کر چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اور دیگر بڑی طاقتوں کی کوشش ہو گی کہ اس جنگ کو کسی سیاسی تصفیے پر ختم کیا جائے۔سینیٹر مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ فوجی انخلا کا فیصلہ درست ہے، لیکن اس کا سیاسی پہلو تشنہ ہے۔ ایک تو یہ کہ ابھی تک بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوئے اور دوسرا یہ کہ امریکہ ایسے میں افغانستان کو خیرباد کہہ کر جا رہا ہے، جب اس نے ایران اور چین کے ساتھ، ان کے بقول، ایک سرد جنگ بھی شروع کر دی ہے۔ یہ ایسے دو ملک ہیں جو افغانستان کے امن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پروفیسر ثروت رؤف کہتی ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ترکی کا کردار بہت ابھر کر سامنے آیا ہے۔


Share: